APCA Header
آہم خبریں
حيدرآباد: ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کو پنجاب میں فعال کرنے کیلئے لاہور ڈویژن کی تشکیل کیکئے نامینشین اور ممبر شپ فارم جاری کردیے گئے
حيدرآباد: سول ملازمین لائین محکمہ جات کا معاشی قتل ہو رہا ہے سیکریٹریٹ ملازمین اور افسران کی مراعات دیگر ملازمین سے زیادہ ہیں عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ملازمین کی تنخواہیں دیگر ملازمین سے تین گنا زیادہ ہیں
حيدرآڀاد: پیٹرول اور ڈیزل اور گیس کے ریٹ کم کئے جائیں کم سے 200 تک کئے دیگر صورت ملک کے بھر کے سول ملازمین کو کنوینس چارجز ماہانہ 10 سے 20 ھزار ماہانہ کیا جائے ایپکا پاکستان شھید ساقی
حيدرآباد: ھماری جھموریت یہ ہے سرکاری نوکری گریڈ 1 تا 4/5 کی پوسٹ 7-10 لاکھ میں بھیجی جا رہی ہے جو بیروزگار گرمیوں میں درخواستیں جمع کرانے میں جس اذیت سے گذرے تھے انکا کسی کو۔ جی احساس نہیں
حيدرآباد: ھماری جھموریت یہ ہے سرکاری نوکری گریڈ 1 تا 4/5 کی پوسٹ 7-10 لاکھ میں بھیجی جا رہی ہے جو بیروزگار گرمیوں میں درخواستیں جمع کرانے میں جس اذیت سے گذرے تھے انکا کسی کو۔ جی احساس نہیں
حيدرآباد: سول ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن عدالتی طرز پر ںڑھائی جائیں اور ملازمین کو انکم ٹیکس کٹوتی سے مستثنی کیاجائے - مرکزی صدر ایپکا پاکستان شھید ساقی نیاز حسین
حيدرآباد: مہنگائی کے تناسب سے %200 فصد تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کیا جائۓ ملازمین اور پینشنرز کا احتصال اور معاشی قتل بند کیا جائے- نياز حسين
گوجرانوالا: چلو چلو لاہور سول سیکریٹریٹ چلو، 31/3/2026 کو چلو ، اپنے حقوق کیلئے بلا تفریق جدوجھد میں چلو ایپکا پاکستان شھید ساقی
کراچی: کل 28 مارچ 2026 کو کراچی ریلوے اسٹیشن سٹی بوقت دن گیارہ 11:00 بجہ صبح کو ایپکا شہید ساقی کے نمائندگان کی غیر معمولی بیٹھک ہو گی
حيدرآباد: "بارگاہ الہی" میں آپکے لۓ اور اپ کے اہل خانہ کے لیے ہمیشہ دعا گو ہوں کہ اپ کو اور اپ کے اہل خانہ کو دین و دنیا میں "عزت "سلامتی"صحت مندی اور دائمی"خوشیوں" نصیب فرما اللہ تبارک و تعالی "مالک" ارض و سماء آپکا ہمیشہ "نگہبان" رہے
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس