APCA Header
آہم خبریں
کوٹری: ایپکا پاکستان(شهید ساقی) کے غیر معمولی بیٹھک میں مرکزی چیٸرمین,مرکزی صدر,صو باٸی صدر اور جنرل سیکریٹری ودیگر کے متفقه فیصله کے تحت مسٹر عابد حسین چانڈیو کو ایپکا پاکستان(ساقی)سندھ کا سرپرست اعلٸ مقرر کرنے کی منظوری دی گٸی
کراچی: کراچی کے مرکزی اور صوباٸی قاٸدین 17اگسٹ 2026 کو ایس ایم ساٸنس کالج صدر کراچی میں دو بجه کے اهم اجلاس میں شرکت کرکے تنظیمی سازی اور کراچی ڈویزن اور اضلاع اور دیگر سیکٹر کی تشکیل نو اور راۓ اقر انتخاب سے باڈی کی تشکیل خود کریں
حیدرأباد: پاکستان کی یوم ازادی مبارک
حیدرآباد: ایپکا پاکستان (شہید ساقی) کے تشخص کو بحال رکہنے اور ملک بہر میں تمام ملازمین کو متحرک پیلیث فارم دینا اور ریثائرڈ ملازمین کو بہی تنظیم کا حصہ بنانے کیلئے ساتھیوں سے راے اور مشورہ جاری ہے -ایم اے بھرگڑی
کراچی: کالیج ایجوکیشن سندھ کے کلرکس اپنی اپنی #ACRs و دیگر کاغذات سینیئر کلرکس سے بطور اسسٹنٹس کے پروموشن کیلئے جمع کرائیں دیر آید درست آید ایپکا (شہید ساقی)
حیدرآباد: سندھ پبلک سروس کمیشن میں 100 مارکس کے نتائیج کے بعد ممبر کو 50 مارکس اور سی سی ای کے نتائیج کے بعد ممبر کو زیادہ سے زیادہ مارکس 100 کا اختیار دیا جائے کہ میرے بحال ہو سکے
حیدرآباد: سندھ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات کی حمایت اور سندھ میں میرٹ کی بحالی سندھ کے عوام کی ضرورت ہے
حیدرآباد: میرٹ بحالی کئپ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ھیڈ آفیس کے سامنے ایکشن کمیٹی کے ساتھ یکجہتی کرنے کیلے مرکزی صدر نیاز حسین خاصخیلی کی قیادت مین ایپکا پاکستان شھید ساقی کا وفد شریک
حیدرآباد: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کے اسکیل روائیز کرنے٬ 7 فیصد ایڈھاک الائونس٬ اسپیشل کنوینس الائونس اور 50 فیصد سرکاری ملازمین کے موجودہ کنوینس الائونس میں اضافہ٬ کم سے کم تنخواہ 4300 رویپہ دینے کیئے گریڈ 1 تا 2 کے ملازمین کو الائونس دینے کے الک الگ نوٹیفکیش
کراچی: وفاقي حکومت وزارت خزانہ نے ملازمین کے نئے پے اسکیل روائیز 2026 جاری کرنے بعد سندھ بلوچستان٬پنجاب ٬ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان حکومت نے الگ الگ اپنے صوبائی ملازمین کو رلیف دینے کے نوٹیفکیشن جاری کئے مگر دوبارہ ڈ سپیئرٹی رڈ کشن نہیں دیا ہے
For Membership

PENSION IN CASE OF RE-EMPLOYMENT/ APPOINTMENT AFTER RETIREMENT (Policy withdrawn)

فکر نا فاقہ عیش کر کاکہ-
کیا ریٹائرمنٹ کے بعد آفسران کے علاوہ کوئی چھوٹا ملازم بہی بہرتی ہوتا ہے؟
وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر بوجھ صرف سرکاری سول لائیں ڈپارٹمنٹ ملازمین اور پینشنرز ہیں ۔
ملک کا خزانہ کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کے استعمال اور ٹھیکیداروں اور نجکاری کے نام پر لوٹ مار جاری ہے کیوں کی اس میں حکومتی لوگ صف اول کے کام میں مصروف ہیں !
دوسری جانب حکومت کا وہ فیصلہ بھی واپس لیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن یا تنخواہ لینا بوجھ قرار دیا گیا تھا اب دوبارہ دونوں مراعات پہلے کی طرح حاصل ہونگی تو 2024 کے نئے بھرتی ملازمین کی پیشن بار کیوں ہے ؟ اور انکی تنخواہوں سے %10 فیصد کٹوتی بھی ناانصافی ہے!
پینشن حق ہے خیرات نہیں مگر سرمایہ داری اور ٹھیکیداری نظام کو ترجیح میں سرکاری ملازمین وزراء اور مشیران حکومت کو کیوں لگ رہا ہے بوجھ بن گئے ہے افسوس